11 فروری 2012 - 20:30

اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر کے ایک فلسطینی کو شہید اور چند افراد کو زخمی کر دیا۔

ابنا: صہیونی ریاست کے جنگی طیاروں نے گزشتہ روز غزہ کے شمالی علاقے" بیت لاہیا" پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کم سے کم دو افراد زخمی ہوگئے۔ تین روز پہلے بھی صہیونی ریاست کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے شمال غزہ پر حملہ کیا تھا۔

غزہ کے خلاف صہیونی ریاست کی تشدد آمیز کارروائیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں کہ جب صہیونی ریاست کی فوج کے کمانڈر" بنی گانتس" نے بھی متعدد مرتبہ دھمکی دی تھی کہ اسرائیل، غزہ پر وسیع پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

فلسطینیوں کے خلاف صہیونیوں کی نئي دھمکیوں نے پہلے سے زیادہ اس حکومت کے ظلم اور بربریت کو لوگوں کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔

صہیونی ریاست کی جارحیتیں اور وحشیانہ حملے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کی کوئی حد نہیں ہے۔

صہیونی ریاست کو مغربی ممالک سے ملنے والی حمایت، اور اس ظالم حکومت کے مقابلے میں عالمی برادری کی بے توجہی کے سبب یہ حکومت کھلم کھلا فلسطین اور عالم اسلام اورانسانیت کے خلاف اقدامات اور جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

اس ناجائز حکومت کی نئی دھمکیوں کا مقصد فلسطینی عوام پر خوف و دہشت طاری کرنا ہے تا کہ اس کے ذریعے مظلوم عوام اس حکومت کی استعماری اور ظالمانہ پالیسیوں کو قبول کر لیں۔

صہیونی ریاست کے نائب وزیر خارجہ" دانی آیالون "نے کچھ دنوں قبل دھمکی دی تھی کہ اگر حماس اور الفتح نے وحدت ملی حکومت کی تشکیل سے اتفاق کیا تو اسرائیل فلسطینی علاقے خاص کر غزہ پر شدید حملہ کرکے غزہ کے عوام کو بجلی اور پانی کی سہولتوں سے محروم کر دے گا۔

بے شک فلسطینیوں کا باہمی اتحاد اور دوستی صہیونی ریاست کے مقابلے میں ان کی قوت میں اضافہ کا سبب ہوگی اور فلسطینیوں کی یہ قدرت و توانائی صہیونیوں کے مقابلے میں مستحکم شمار ہوگی۔

فلسطین کی حالیہ تبدیلیوں نے بھی ظاہر کر دیا ہے کہ جب بھی فلسطین کے عوام نے اتحاد و یگانت کے ساتھ مزاحمت و مقاومت کا مظاہرہ کیا ہے صہیونی ریاست ہمیشہ ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔

اسی بناء پر صہیونیوں نے ہمیشہ تشدد آمیز کارروائی ، دھمکی اور تفرقہ انگیز پالیسیوں جیسے مختلف حربے اپناکر فلسطینیوں کے اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسے حالات میں فلسطینیوں پر لازم ہے کہ صہیونیوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے بہت زیادہ ہوشیاری اور عقلمندی سے کام لیں۔

یہ ایسے موقع پر ہے جب کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی نئی دھمکیاں اور تشدد آمیزکارروائیاں اس سرزمین کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

ادھر صہیونی ریاست کی ظالمانہ کارروائیوں پر عالمی اداروں کی مستقل خاموشی کے باعث دنیا، فلسطین کے خلاف صہیونیوں کے مظالم کو بدستور دیکھ رہی ہے۔............ /169